There’s a new leak coming from a Russian games journalist, and it has everyone rather excited. Unfortunately, it seems likely false, and it’s likely wise to nip this in the bud prior to a bunch of gamers lighting proverbial fires across social media.
Russian journalist Anton Logvinov has stated that Horizon Zero Dawn will be coming to PC in February 2020. Many sites on the internet are currently stating this as being a factual leak, crafting narratives to support their hopes through some gymnastics that even has Svetlana Khorkina licking her chops.
The mere mention of this coming to PC has many excited as the open-world game had an interesting vision for the future of humanity and wildlife. Recreating the experience for PC would really stretch the capabilities of computers (and modding) as the game has a hefty number of idyllic scenery that stretches as far as the eye can see.
Beyond the raw power that computers bring to the fight, it’s simply far easier to aim with a keyboard and mouse than it is with a controller. When most PC users see professional teams aiming a weapon with a controller, it simply defies reasoning that is readily available. Personally, I’ve launched arrows in Horizon Zero Dawn well beyond what I was attempting to aim at, and it happened enough that the game ended up simply shelved for good.
So pardon everybody’s excitement that the game may be coming to PC. That all being said, these rumors are likely false. With Sony’s historical control over their first-party games, along with a complete lack of evidence, I’d keep the bow in the closet until we see something with more merit than a YouTube video.
If it’s real, he gets tons of clout for his next video. If not, he’ll still gain a bit of popularity; at least among those that speak Russian.
Yet Horizon Zero Dawn is a first-party title for Sony, and they haven’t exactly set a precedent in allowing their titles that were supposed to encourage gamers to purchase the PlayStation 4 migrate wantonly to other platforms, even one as replete as PC. Granted, we have seen games that are a wee bit long in the tooth coming to PC recently, and this may be a direct response to that.
Halo: The Master Chief Collection coming to Steam and captivating the audience yet again may merit a direct counter from Sony, and pushing their first-party games would be a brilliant counter. Although Sony’s recent victories found through their console line doesn’t seem to have them jumping at any chance to compete with Microsoft.
Secondly, all we have to go on is a Russian YouTuber. There are simply zero merits to this rumor as of yet, and YouTubers are notorious for crafting wild rumors in a desperate bid to attract more viewers on the ever-crowded platform. It’s far more likely that they’re discussing the next Horizon Zero Dawn coming to the next generation of PlayStation, and our journalist friend got all of his wires crossed in the most popular way possible.
کراچی: رکن سندھ اسمبلی نصرت سحر عباسی کا کہنا ہے کہ کاری سندھ کی رسم نہیں بلکہ قتل ہے، اس کے خلاف کارروائی ہونی چاہیئے۔ بلاول کو چاہیئے دوسرے صوبوں میں چیخ کر بات کرنے سے پہلے اپنے صوبے کی بات کریں۔
تفصیلات کے مطابق رکن سندھ اسمبلی نصرت سحر عباسی نے اے آر وائی نیوز کے مارننگ شو باخبر سویرا میں گفتگو کرتے ہوئے 11 سالہ بچی کو کاروکاری کیے جانے کے معاملے پر سخت غم و غصہ کا اظہار کیا۔
نصرت سحر کا کہنا تھا کہ والدین کا بیان با اثر شخصیت کی وجہ سے تبدیل ہوا ہوگا۔ سندھ میں 6 ماہ میں 78 اس نوعیت کے کیسز سامنے آئے ہیں۔ کاری سندھ کی رسم نہیں بلکہ یہ قتل ہے، اس کے خلاف کارروائی ہونی چاہیئے۔
انہوں نے کہا کہ جرگے وہی لوگ کرتے ہیں جو ایوانوں میں بیٹھے ہیں، اسمبلی میں مسئلہ اٹھانے پر کہا جاتا ہے میڈیا غلط رپورٹ کر رہا ہے۔ سندھ میں ایسے جرائم کے واقعات بہت زیادہ ہیں جو سامنے نہیں آتے۔
نصرت سحر نے سندھ حکومت اور پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ سندھ میں کتے بچوں کو کاٹ رہے ہیں، لوگ ایڈز سے مر رہے ہیں، ڈینگی اور ہیپاٹائٹس نے صوبے کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے، اور وزیر صحت کہتی ہیں بچے کتوں کو نہ چھیڑیں۔ کون سی جگہ کا وزیر صحت ایسے بیانات دیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلاول صاحب اپنے صوبے کی فکر کریں، دوسرے صوبوں میں جا کر بڑی بڑی باتیں نہ کیا کریں، دوسرے صوبوں میں چیخ کر بات کرنے سے پہلے اپنے صوبے کی بات کرو۔ سندھ حکومت کو عوام کی پرواہ نہیں، ایسی سیاست سے اچھا ہے بلاول گھر بیٹھ جائیں۔
خیال رہے کہ گزشتہ روز سندھ کے شہر دادو میں 11 سالہ بچی کو کاری قرار دے کر، سنگسار کر کے قتل کرنے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ پولیس کے مطابق واقعہ دادو کے علاقے جوہی میں 21 نومبر کی شام کو پیش آیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ لڑکی کے والدین اور 2 سہولت کاروں کو گرفتار کر لیا گیا ہے، لڑکی کی نمازِ جنازہ پڑھانے والے پیش امام کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔
بچی کی والدہ کا دعویٰ ہے کہ ان کی بیٹی کی موت حادثاتی طور پر پتھریلا تودہ گرنے سے ہوئی۔
انسپکٹر جنرل (آئی جی) سندھ کلیم امام نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ایس ایس پی دادو سے واقعے سے متعلق تمام تفصیلات طلب کرلی ہیں، مقتولہ کی قبر کشائی کے لیے متعلقہ عدالت سے بھی جلد رجوع کیا جائے گا۔
کراچی: سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر فردوس شمیم نقوی نے کہا ہے کہ صرف کراچی ہی نہیں بلکہ پورے سندھ میں لا قانونیت کا راج ہے، پیپلز پارٹی حکومت پولیس نظام بہتر کرنے میں ناکام ہے۔
تفصیلات کے مطابق اے آر وائی نیوز کے پروگرام باخبر سویرا میں گفتگو کرتے ہوئے فردوس شمیم نقوی نے کہا کہ سندھ اسمبلی میں جنگل کا قانون ہے، کسی کو فکرنہیں، عوام کو تحفظ دینے میں سندھ حکومت ناکام ہو چکی ہے، پنجاب میں سیف سٹی اتھارٹی ہے، کرائم ریٹ کم ہے، یہ لوگ چوریاں کرتے ہیں پکڑائی ہو تو پریشان رہتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت کو عوام کی کوئی پرواہ نہیں، وزیر داخلہ یا آئی جی سندھ کو مستعفی ہو جانا چاہیے، سی سی ٹی وی کیمرے بہت ہی ناکارہ لگے ہوئے ہیں، پولیس سے کرپشن کے خاتمے جیسے مسائل 32 سال سے ہیں، سندھ حکومت کو ریفارمز کے ساتھ اچھے افسر بھرتی کرنے چاہئیں۔
خیال رہے کہ پروگرام باخبر سویرا میں سندھ کے علاقے جوہی میں ہونے والے افسوس ناک واقعے اور کراچی ڈیفنس میں لڑکی کے اغوا کے واقعے پر بات چیت ہو رہی تھی، فردوس شمیم کا کہنا تھا کہ پولیس نظام کی بہتری کی ضرورت ہے تاکہ ایسے واقعات کی روک تھام بروقت کی جا سکے۔
پروگرام میں رکن سندھ اسمبلی نصرت سحر عباسی نے بھی بات کی، کہا کاری سندھ کی رسم نہیں بلکہ قتل ہے، اس کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے، بلاول کو چاہیے کہ دوسرے صوبوں میں چیخ کر بات کرنے سے پہلے اپنے صوبے کی بات کریں۔
نومبر میں سات کشمیری شہید اور 80 کو زخمی کیاگیا،رپورٹ
سری نگر : مقبوضہ کشمیرمیں لوگوں کوگھروں میں محصورہوئے ایک سوبیس روز ہوگئے ہیں ، انٹرنیٹ اورموبائل سروس کی مسلسل بندش سے کشمیری نوجوانوں کی بڑی تعداد عالمی اداروں میں نوکریوں سے فارغ ہوگئی۔
تفصیلات کے مطابق مطابق مقبوضہ کشمیر قابض بھارتی انتظامیہ کو کرفیو نافذ کیے 119 روز ہو چکے ہیں تاہم اس کے باوجود وادی کی صورت حال انتہائی کشیدہ ہے اور کشمیریوں کی بڑی تعداد تمام تر پابندیوں کے باوجود آئے روز اپنے حقوق کے لیے قابض فوج کے خلاف مظاہرے کر رہی ہے۔
قابض بھارتی فوج نے سفاکانہ کارروائیاں کرتے ہوئے گزشتہ ماہ 7 کشمیریوں کو شہید اور 82 کو زخمی کیا، کشمیریوں کو پیلٹ گنوں، فائرنگ اور آنسو گیس کی شیلنگ کر کے زخمی کیا گیا لیکن انسانی حقوق کا واویلا کرنے والے عالمی چیمپئین خاموش ہیں۔
مقبوضہ کشمیرمیں انٹرنیٹ اورموبائل سروس کی مسلسل بندش نے کشمیری نوجوانوں سے روزگارچھین لیا اور کشمیری نوجوانوں کی بڑی تعداد عالمی اداروں میں نوکریوں سے فارغ ہوگئی۔
رپورٹ کے مطابق نومبر میں قابض بھارتی فوجیوں نے گھروں پر چھاپے مار کر 60 کشمیریوں کو گرفتار کیا گیا اور محاصروں کے دوران 3 گھروں کو تباہ بھی کیا گیا جب کہ مساجد میں 5 اگست سے جمعہ کی نماز ادا کرنے پر پابندی ہے۔
شدید سردی میں بجلی کی فراہمی معطل ہونے اورکھانے پینے کی اشیا اوردواؤں کی قلت سے مقبوضہ وادی میں صورتحال سنگین ہوگئی ہے جبکہ کاروباری مراکز،تعلیمی ادارے اوردکانیں بندہیں اور ٹرانسپورٹ بھی معطل ہے جبکہ کشمیری رہنما بھی بدستورقید اورنظربند ہیں۔
اسلام آباد : ایم کیو ایم رہنما ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس میں 3 اہم غیرملکی گواہوں کا بیان ریکارڈ کیا جارہا ہے، گواہان میں لندن پولیس چیف انسپکٹر،سارجنٹ ،کانسٹیبل شامل ہیں۔
تفصیلات کے مطابق اسلام آباد کی انسداددہشت گردی عدالت میں ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس کی سماعت ہوئی ، انسداد دہشت گردی عدالت کے جج شاہ رخ ارجمند سماعت کررہے ہیں۔
عمران فاروق قتل کیس میں تین برطانوی گواہان عدالت میں پیش ہوگئے ، جہاں ان کا بیان ریکارڈ کیا جارہا ہے، برطانوی گواہان میں لندن پولیس چیف انسپکٹر،سارجنٹ ، کانسٹیبل شامل ہیں۔
اس موقع پر جوڈیشل کمپلیکس میں سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کئے گئے ہیں جبکہ اسلام آباد پولیس کے تازہ دستے جوڈیشل کمپلیکس کے اطراف تعینات ہیں۔
یاد رہے ایم کیو ایم رہنما ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس میں عدالت نے غیرملکی گواہان کو پیش کرنے کے لیے20 سے 25دن کی مہلت کی درخواست منظور کرتے ہوئے 2 دسمبر کو پیش کرنے کا حکم دیا تھا، ایف آئی اے نے بتایا کہ مارچ کی وجہ سے گواہان کو پیش کرنے میں خطرہ تھا۔
اس سے قبل سماعت میں برطانوی حکومت سے ملنےوالے شواہد اسلام آباد کی انسداددہشت گردی عدالت میں پیش کئے گئے تھے، جن میں عمران فاروق قتل کی ویڈیو فوٹیج اور آلہ قتل کے ساتھ فرانزک رپورٹس شامل تھیں۔
خیال رہے برطانیہ نے عمران فاروق قتل کیس کے تمام شواہد پاکستان کو فراہم کرنے کے لئے رضامندی ظاہر کی تھی جبکہ پاکستان نے برطانیہ کو ملزمان کو سزائے موت نہ دینے کی یقین دہانی کرائی تھی۔
واضح رہے ڈاکٹر عمران فاروق 16 ستمبر 2010 کو لندن میں اپنے دفتر سے گھر جارہے تھے کہ انہیں گرین لین کے قریب واقع ان کے گھر کے باہر چاقو اور اینٹوں سے حملہ کرکے قتل کردیا گیا تھا، حملے کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے تھے۔
برطانوی پولیس نے دسمبر 2012 میں اس کیس کی تحقیق و تفتیش کے لیے ایم کیو ایم کے قائد کے گھر اور لندن آفس پر بھی چھاپے مارے گئے تھے، چھاپے کے دوران وہاں سے 5 لاکھ سے زائد پاونڈ کی رقم ملنے پر منی لانڈرنگ کی تحقیقات شروع ہوئی تھی۔
بعد ازاں ایف آئی اے نے 2015ءمیں عمران فاروق کے قتل میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کے شبہ میں بانی متحدہ اور ایم کیو ایم کے دیگر سینئر رہنماوں کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا اور اسی سال محسن علی سید، معظم خان اور خالد شمیم کو بھی قتل میں ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا تھا۔
کراچی: متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے کنوینر خالد مقبول صدیقی نے شکوہ کیا ہے کہ جو جماعت حکومت میں ہے اس کے 200 دفاتر بند پڑے ہوئے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق خالد مقبول صدیقی نے ایم کیو ایم بہادر آباد مرکز میں خواتین کے جنرل ورکرز اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اب کراچی کو قومی دھارے میں لانا ہوگا، ہم حکومت میں ہیں اور ہمارے دو سو دفاتر بند ہیں۔
کنوینر کا کہنا تھا کہ اُس جماعت سے خطرہ ظاہر کیا جا رہا ہے جس کے کارکن گرفتار ہیں اور دفاتر بند کر دیے گئے ہیں، 1992 میں بھی ایم کیو ایم اتنی کم زور نہیں تھی، مہاجروں کے عروج کے بغیر پاکستان کا عروج ممکن نہیں، آج 50،60 فی صد سیٹیں کسی اور کو دے دی گئیں، نظام کے محافظوں کا سب سے بڑا خطرہ ایم کیو ایم ہے۔
خیال رہے کہ گزشتہ روز وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کراچی آ کر ایم کیو ایم کے رہنماؤں سے خصوصی ملاقات کی تھی، اس موقع پر ایم کیو ایم نے شکوؤں اور شکایات کے ڈھیر بھی لگا دیے تھے، ایم کیو ایم نے مطالبات پورے نہ ہونے کی صورت میں حکومت سے نکلنے کا عندیہ بھی دیا۔
ذرایع کے مطابق ایم کیو ایم نے شکوہ کیا کہ ملاقاتوں اور یقین دہانیوں کے علاوہ عملی اقدامات صفر ہیں، معاہدوں اور وعدوں پر عمل نہ ہوا تو اپنا فیصلہ کرنے میں آزاد ہوں گے۔
شاہ محمود قریشی نے معاملہ افہام و تفہیم اور جلد حل کرنے کا وعدہ کیا، اور ایم کیو ایم رہنماؤں کو یہ معاملہ وزیر اعظم کے سامنے رکھنے کی یقین دہانی کرائی۔
کراچی : سابق جج ناصرہ جاوید کا کہنا ہے کہ خوش آئند ہے2020 میں ایک خاتون جج سپریم کورٹ ضرور جائیں گی، خواتین ججز کے باعث انصاف کا عمل تیز بھی ہوگا۔
تفصیلات کے مطابق سابق جج ناصرہ جاوید نے اے آر وائی نیوز کے پروگرام باخبر سویرا میں گفتگو کرتے ہوئے کہا خواتین ججز کی تعینات کا فیصلہ بہت پہلے ہونا چاہیے تھا، خوش آئند ہے2020 میں ایک خاتون جج سپریم کورٹ ضرور جائیں گی۔
ناصرہ جاوید کا کہنا تھا کہ خواتین ججز کے باعث انصاف کا عمل تیز بھی ہوگا، خواتین سائل جب خواتین ججز کے پاس پہنچیں گی تو انصاف تیز ہوگا۔
انھوں نے کہا کہ سابق جج خواتین کو ججز کی تعیناتی پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی، بلوچستان میں خاتون چیف جسٹس بنیں جو سب کیلئے باعث فخر ہے۔
یاد رہے گذشتہ روز لاہور میں تیسری خواتین ججز کانفرنس سے چیف جسٹس آف پاکستان نے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اعلیٰ عدلیہ خواتین کے حقوق کا تحفظ یقینی بنا رہی ہے، خواتین کی ضمانت سے متعلق کچھ نرمی کی ضرورت ہے۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ میں بھی خواتین ججز کی تعیناتی جلد ہوگی، جج بننے کے بعد خواتین ججز کا رویہ بھی مرد ججز کی طرح ہو جاتا ہے، وقت کے ساتھ خواتین اور مرد ججز کا فرق ختم ہو جائے گا، خواتین ججز ذہنی تناؤ سے آزاد رہ کر اپنا کام کریں، لیکن جرائم کے مقدمات میں خواتین ججز سخت الفاظ سے گریز کریں۔
انھوں نے مزید کہا تھا کہ کانفرنس سے خواتین کی قانون کے شعبے میں حوصلہ افزائی ہوگی، ضلعی عدالتوں میں 300 سے زائد خواتین ججز خدمات انجام دے رہی ہیں، معاشرے میں خواتین کا کردار بڑھتا جا رہا ہے، ہمیں بھی زندگی کے ہر شعبے میں خواتین کو با اختیار بنانا ہوگا، عدلیہ خواتین کے تحفظ، انصاف کی فراہمی کے لیے ترجیحی اقدامات کر رہی ہے۔
غلامی کا لفظ سنتے ہی ذہن میں کسی پرانے دور کا تصور ابھر آتا ہے جب انسانوں کو غلام بنا لیا جاتا تھا، قید کر کے رکھا جاتا تھا اور ان سے جبری مشقت کروائی جاتی تھی، لیکن آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ آج اکیسویں صدی میں بھی ہماری دنیا میں غلامی اپنی تمام تر بدنمائی کے ساتھ موجود ہے۔
انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں 4 کروڑ افراد کسی نہ کسی قسم کی غلامی میں زندگی بسر کرہے ہیں۔ ہر 1 ہزار میں سے 5 افراد جدید غلامی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں۔
دراصل عالمی ادارے دنیا بھر میں جاری انسانی اسمگلنگ، جبری مزدوری، قرض چکانے کے لیے خدمت، جبری خدمت کے عوض شادی اورکاروباری جنسی استحصال کو جدید غلامی قرار دیتے ہیں۔
ماضی میں دنیا بھر میں غلامی ایک ادارہ اور کاروبار تھا۔ یورپی اقوام غلاموں کی تجارت میں سب سے بدنام رہیں۔ افریقہ سے لاکھوں لوگوں کو اغوا کر کے غلام بنایا جاتا اور دنیا بھر میں فروخت کیا جاتا تھا۔
برطانوی سلطنت میں سنہ 1833 میں غلامی کا خاتمہ ہوگیا تاہم جدید غلامی ایکٹ جس میں انسانی اسمگلنگ اور جبری مشقت کو غیر قانونی قرار دیا گیا، صرف چند برس قبل سنہ 2015 میں منظور کیا گیا۔
قدیم روم میں موسم سرما کے ایک فیسٹیول میں غلام اور مالکان کچھ وقت کے لیے اپنے کردار بدل لیا کرتے تھے اور غلام مالکان، جبکہ مالکان غلام بن جایا کرتے تھے۔
جس وقت برطانیہ میں غلامی کا خاتمہ کیا گیا اس وقت معاوضے کے طور پر ایک بڑی رقم مختص کی گئی تاہم یہ رقم غلاموں کے بجائے ان کے 46 ہزار سابقہ مالکان کو دی گئی جن کے کاروبار زندگی غلاموں کے بغیر معطل ہوگئے تھے۔ 8 لاکھ غلام آزاد ہو کر بھی خالی ہاتھ رہ گئے۔
اسی طرح امریکا میں سولہویں صدر ابراہام لنکن نے غلامی کو ختم کرنے کی ٹھانی اور اس کے لیے طویل خانہ جنگی لڑی، اس جنگ کو امریکا کی خونریز ترین جنگ کہا جاتا ہے۔
بالآخر لنکن اپنے عظیم مقصد میں کامیاب رہا اور اور 1865 میں امریکا میں غلامی غیر قانونی قرار پائی۔
ابراہام لنکن
اس کے علاوہ بھی دنیا کے مختلف حصوں میں غلامی کے خلاف طویل جدوجہد کی گئی اور عصری شعور پھیلتا گیا، تاہم یہ کہنا غلط ہوگا کہ غلامی ختم ہوگئی، البتہ اس نے اپنی شکل بدل لی۔
واک فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ ہر 3 غلام افراد میں ایک بچہ شامل ہے جو غلامی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہے، جبکہ غلاموں کی نصف تعداد خواتین اور نوجوان لڑکیوں پر مشتمل ہے۔
غلام بنانے والے ممالک
واک فری فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ دنیا میں 5 ممالک میں جدید غلامی کی شرح سب سے زیادہ ہے جس میں سرفہرست بھارت ہے۔
دوسرے نمبر پر چین، چوتھے پر بنگلہ دیش، اور پانچویں پر ازبکستان موجود ہے۔
بدقسمتی سے اس فہرست میں پاکستان تیسرے نمبر پر موجود ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں موجود غلاموں کی آبادی کا 58 فیصد حصہ انہی 5 ممالک میں رہائش پذیر ہے اور غیر انسانی حالات کا شکار ہے۔
فہرست کے مطابق بھارت میں ایک کروڑ سے زائد، چین میں 33 لاکھ، پاکستان میں 21 لاکھ، بنگلہ دیش میں 15 لاکھ جبکہ ازبکستان میں 12 لاکھ افراد غلامی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں۔